صداقت میں آزمائش ہے
صداقت کی مظلومی کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، اس پر آزمائش و ابتلاء کے ایسے ایسے ہلاکت خیز وقت آئے ہیں جب خدا کی زمین پر چند دلوں کے سوا اس کا کہیں نشیمن نہ تھا لیکن باوجود اس کے سچ سچ رہا اور باطل باطل! صداقت اپنی حامیوں کی کثرت و قلت اور استقامت و تزلزل سے ہمیشہ بے پروا رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی وہ تمہارے پاس اس لیے نہیں آتی کہ تمہاری محتاج ہے، بلکہ اس لیے کہ تم اس کے محتاج ہو۔ اگر تم نے اپنے تئیں اہل ثابت نہیں کیا تو تم سے اپنا رشتہ کاٹ لے گی اور کسی اور مستقل دل کو اپنا نشیمن بنائے گی.!
📚 مضامین ابوالکلام آزاد ، جلد دوم ، صـ ۳۰۱
Comments
Post a Comment