Posts

نیک عمل کرکے ڈرنا (تفسیر سورہ مؤمنون)

سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 60 ترجمہ: اور جن کا حال یہ ہے  کہ دیتے ہیں جو کچھ  بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اِس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے۔ 54 تفسیر: سورة الْمُؤْمِنُوْن  54 عربی زبان میں " دینے " (ایتاء) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں کہ اٰتیتہ من نفسی القبول کسی شخص کی اطاعت سے انکار کردینے کے لیے کہتے ہیں اٰتیتہ من نفسی الابائۃ۔ پس اس دینے کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ وہ راہ خدا میں مال دیتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب اللہ کے حضور طاعت و بندگی پیش کرنے پر بھی حاوی ہے۔  اس معنی کے لحاظ سے آیت کا پورا مفہوم یہ ہوا کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری میں جو کچھ بھی نیکیاں کرتے ہیں، جو کچھ بھی خدمات انجام دیتے ہیں، جو کچھ بھی قربانیاں کرتے ہیں، ان پر وہ پھولتے نہیں ہیں، غرور تقویٰ اور پندار خدا رسیدگی میں مبتلا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مقدور بھر سب کچھ کر کے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ خدا جانے یہ قبول ہو یا نہ ہو، ہمارے گناہ...

حلال رزق کے فائدے

سورۃ نمبر 23 المؤمنون آیت نمبر 51 ترجمہ: اے پیغمبرو، کھاوٴ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خُوب جانتا ہوں تفسیر: سورة الْمُؤْمِنُوْن  45 پچھلے دو رکوعوں میں انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یٰٓاَیُّھَا الُّرُسُل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کو ایک امت، ایک جماعت ایک گروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے طرز بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ کھنچ جائے۔ گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دی جا رہی ہے۔ مگر اس طرز کلام کی لطافت اس دور کے بعض کند ذہن لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی اور وہ اس سے یہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ یہ خطاب محمد ﷺ کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف ہے اور اس سے حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ تعجب ہے جو لوگ زبان و ادب کے ذوق لطیف سے اس قدر کورے ہیں وہ قرآن کی تفسیر...

تفسیر سورہ حجرات

سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىِ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞ ترجمہ: اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کےرسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو1 اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔2 تفسیر: سورة الْحُجُرٰت  1 یہ ایمان کا اولین اور بنیادی تقاضا ہے۔ جو شخص اللہ کو اپنا رب اور اللہ کے رسول کو اپنا ہادی و رہبر مانتا ہو، وہ اگر اپنے اس عقیدے میں سچا ہے تو اس کا یہ رویہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اپنی رائے اور خیال کو اللہ اور رسول کے فیصلے پر مقدم رکھے یا معاملات میں آزادانہ رائے قائم کرے اور ان کے فیصلے بطور خود کر ڈالے بغیر اس کے کہ اسے یہ معلوم کرنے کی فکر ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان معاملات میں کوئی ہدایت دی ہے یا نہیں اور دی ہے تو وہ کیا ہے۔ اسی لیے ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے " پیش قدمی نہ کرو "، یعنی ان سے آگے بڑھ کر نہ چلو، پیچھے چلو۔ مقد...

منتخب اشعار

شوق کو عازم سفر رکھیے بے خبر بن کر سب خبر رکھیے  چاہے نظروں ہوں آسمانوں پر  پاؤں لیکن زمین پر رکھیے  جانے کس وقت کوچ کرنا ہو اپنا سامان مختصر رکھیے 

اسلام میں خواتین کی اہمیت: بااختیار بنانا، مساوات اور روحانیت

اسلام، ایک جامع طرز زندگی کے طور پر، معاشرے میں خواتین کی اہمیت اور قدر پر گہرا زور دیتا ہے۔ ان غلط فہمیوں سے دور جو اکثر اسلامی تعلیمات میں خواتین کے کردار کو گھیرے ہوئے ہیں، مذہب دراصل انہیں بنیادی حقوق دیتا ہے، ان کی شراکت کا احترام کرتا ہے اور مختلف شعبوں میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ بااختیار بنانے اور تعلیم سے لے کر روحانیت اور سماجی بہبود تک، اسلام کثیر جہتی انداز میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ . بااختیار بنانا اور تعلیم: اس تصور کے برعکس کہ اسلام خواتین پر ظلم کرتا ہے، مذہب ان کو بااختیار بنانے اور تعلیم کی حمایت کرتا ہے۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان، مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلامی تاریخ خواتین کے اسکالرز، ماہرین الہیات اور رہنمائوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے مختلف شعبوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ . اقتصادی اور سماجی شرکت: اسلام خواتین کے معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ قرآن اقتصادی شراکت داروں کے طور پر ان کے کردار کو تسلیم کرتا ہے اور انہیں ک...

اسلام میں والدین کے حقوق: ایک جامع تناظر

والدین اور بچوں کے تعلقات اسلام میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، جو خاندان، شفقت اور ذمہ داری پر ایمان کے زور کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات والدین اور بچوں دونوں کے حقوق اور فرائض کا خاکہ پیش کرتی ہیں، محبت، احترام اور باہمی تعاون کے ماحول کو فروغ دیتی ہیں۔ قرآن اور حدیث (پیغمبر اسلام کے اقوال و افعال) مذہب کے تناظر میں والدین کے حقوق کے بارے میں ایک جامع رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسلام میں والدین کی اہمیت: اسلام والدین کی عزت و تکریم پر بے مثال زور دیتا ہے۔ قرآن نے اس اہمیت کو کئی آیات میں اجاگر کیا ہے۔ سورۃ الاسراء (17:23) میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے: "اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اور یہ کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا یہ دونوں تمہاری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، ان کو بے عزتی کی بات نہ کہو اور نہ ہی ان کو چیخیں بلکہ عزت کے ساتھ مخاطب کریں۔" والدین پر اولاد کے فرائض: اسلامی تعلیمات اس فرمانبرداری اور احترام پر زور دیتی ہیں جو بچے اپنے وا...

قرآن کیا ہے

قرآن ایک عظیم کتاب ہے، اس کائنات کے بنانے اور پیدا کرنے والے نے دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، یہ کتاب ہر انسان کی کتاب ہے، اس کتاب کے اندر انسان کو انسان بنانے کے اصول، ضابطے اور تعلیمات دی گئی ہیں، یہی کتاب